John Mccain Accepts Nomination Video
22 views 0 Comments Published September 4th, 2008 in امریکہ نامہ.Whats that at 7:58 through 8:53
Popularity: 1%
Popularity: 1%
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ امریکہ میں رمضان کا بالکل مزہ نہیں آتا۔ بالکل بھی نہیں۔ اول تو رمضان کے آنے کا ہی پتہ نہیں چلتا۔ پاکستان میں تو پہلے شب معراج پھر شب برات پر جب تک مولوی ساری رات لاؤڈ سپیکر پر گلا پھاڑتے نہیں تھے اور اگلا سارا دن ساری قوم کا سر سکولوں اور دفتروں میں بھاری نہیں رہتا تھا تب تک پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ رمضان کی آمد آمد ہے۔ اسلامی دن عصر پر ختم ہوتا ہے اور مغرب سے نیا وقت شروع ہوتا ہے تو اس وقت ماحول تبدیل ہو جاتا تھا اور ایک بڑی عجیب لیکن اچھی کیفیت ہوتی تھی جس کو میں بیان تو نہیں کر سکتا بس یوں سمجھیئے کہ پتہ لگتا تھا کہ عام دن نہیں ہیں۔ امریکہ میں آپ کو محسوس ہی نہیں ہوتا۔ اور سب دن ایک جیسے ہی ہیں۔
اس کے بعد مسلمان پہلے دن بیس کی بیس تراویح پڑھتے ہیں۔ میں چونکہ گناہ بخشوا آیا ہوں لہذا میں اس وقت بستر میں سکون سے لیٹ کر لاؤڈ سپیکر سے بلند ہوتی اللہ اکبر کی صدا سنا کرتا تھا۔ دادا ابو ہوتے تھے تو وہ روزے کے بعد فجر کے وقت سب کو مسجد لے کر جاتے تھے۔ اس وقت مسجد میں اتنے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں کہ جگہ ختم ہو جاتی ہے۔ پھر مسلمان گھٹتے گھٹے بیس رمضان تک دوبارہ اگلی دو صفوں تک محدود ہو جاتے ہیں جو اکیسویں روزے سے پھر آباد ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ میری پھپھو کے بچے مجھے بتاتے تھے کہ صاحب ہم نے اتنی تروایح پڑھیں۔ اور تو اور مجھے وہ بچے بھی اپنی تراویح کا ریکارڈ سنا جاتے تھے جو ہفتہ میں ایک روزہ رکھتے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ بیس تراویح ہوتی ہیں تو ان کی اس دن کے حساب سے پوری کیوں نہیں ہوتی؟ ہمیشہ کم ہی کیوں ہوتی ہیں۔ ایک دن ان کے ساتھ تراویح پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔ ہوتا کچھ یوں تھا کہ پہلی آٹھ تو انہوں نے پوری پڑھیں۔ آٹھ کے بعد بہت سے مسلمان ضروری کاموں سے گھر روانہ ہو جاتے ہیں تو یہ لوگ پھوپھا جی کو اگلی صف میں کر دیتے تھے۔ اگر پھوپھا جی خود اگلی صف میں نہ جائیں تو یہ تکبیر کے بعد کچھ دیر انتظار کرتے تھے اور پھوپھا جی جب نماز شروع کر دیتے تھے تو یہ خود ایک صف پیچھے جا کر ایسے بیٹھتے تھے کہ لگے ابھی سلام پھیرا ہے۔
رمضان اس لئے بھی بہت اہم ہے کہ روزہ رکھیں یا نہ لیکن افطار بہت لازمی شے ہے۔ اور افطار پر خصوصی توجہ لازمی ہے۔ اس قدر لازمی کہ چاہے بیمار ہی کیوں نہ ہوں ہر اچھی شے میں سے کچھ نہ کچھ حسب توفیق کھانا لازمی بات ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ صبح سکول کے لئے تو بیمار تھے لیکن افطار کے وقت تک لڈیاں ڈال رہے ہیں کہ باورچی خانے سے ہو آئے ہیں۔ یہ سارے عیش پاکستان ہی ہیں۔ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں۔ سحری میں تو ہمیشہ رات کا بچا سالن ہوا کرتا تھا لیکن یہاں تو افطار کی بھی عزت گئی گزری ہے۔ دو پکوڑے اور ایک روٹی بات ختم۔ چائے کا کپ لو اور منہ بند۔ اگر ابو والمارٹ گئے ہوں تو آئس کریم کا ڈبہ لے لو یا جو کوک لا کر رکھی تھی اس کو دیکھو کہ کدھر گئی۔ میرا تو پورا موڈ ہے کہ اگلے سال رمضان میں پاکستان رفوچکر ہو جانا ہے۔ چاہے آخری دس دنوں کے لئے جائیں پر جائیں ضرور۔
امریکہ میں رمضان کا پتہ چلانا ہو یا عید کا یا تو مسجد سے پوچھیں۔ اگر میری طرح کسی ایسی جگہ پھنس گئے ہیں جہاں مسجد کافی دور ہے یا پھر ہر ایک کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد۔ تو پھر isna یا icna کا منہ تکیں۔ یہاں کافی لوگوں کا موڈ تھا کہ 2 ستمبر سے روزے شروع کریں میں نے یکم ستمبر سے کروا دئیے۔ میں نے گوگل پر مون فیز سرچ کر کے دیکھا اور یکم ستمبر سے شروع کروا دیا۔ بعد میں دیکھا تو isna کا بھی یکم ستمبر سے تھا۔ icna کی سائٹ پر مجھے نہیں ملا۔ اگر آپ کے دین میں مون کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا لازمی نہیں چاہے آپ کو دس نمبر کی عینک لگی ہو اور وہ بھی آپ گھر بھول آئے ہوں اور پھر بھی چاند تلاش کر رہے ہوں تو مون فیز دیکھنے میں حرج نہیں۔
اپڈیٹ: ابھی لنک کے لئے دوبارہ icna کی ویب سائٹ پر گیا تو انہوں نے سچ مچ چاند دیکھ کر ہی دو ستمبر کو رمضان شروع کروایا ہے۔
رمضان کا شیڈول یہاں سے نکالا جا سکتا ہے۔ ویسے یہ سافٹ وئیر بھی اچھا ہے۔ میں نے اس کو کافی عرصہ سے انسٹال کیا ہوا ہے۔ ایک تو پورے گھر کو پتہ چل جاتا ہے کہ اذان ہوئی ہے۔ (جی ہاں میرے گھر میں کمپیوٹر، لیپ ٹاپ سب 24 گھنٹے چلتے ہیں کبھی بند نہیں ہوتے) دوسرے اس کا شیڈول مجھے زیادہ مناسب لگا۔ میں شیڈول کی جگہ اس سافٹ وئیر کو فالو کرتا ہوں۔
Popularity: 2%
میں جب پانچویں جماعت میں تھا تو ہفتہ میں ایک دن اسمبلی میں اخبار پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ باقی 5 دن اور بچوں کی باری ہوتی تھی۔ چلیں آج میں آپ کو اخبار پڑھ کر سناتا ہوں۔
میرے بچپن میں کبھی کبھی اسکول میں مسوں کو جوش چڑھتا تھا لہذا وہ اسمبلی کے بعد ایک ایک بچے کا ناک منہ کان گلا ناخن چیک کرتی تھیں۔ ہفتہ پہلے دی جانے والی وارننگ کے باوجود ملزمان کو حسب توفیق مار لگائی جاتی تھی۔ باقی چیزوں پر تحقیق جاری ہے لیکن اگر آپ کان کی میل ابھی تک صاف کرتے ہیں تو کرنا بند کر دیں بری بات جدید تحقیق کے مطابق یہ بڑی مفید چیز ہے۔
سمندری طوفان hanna اب ہریکین بن چکا ہے۔ آج ہی اس نے طوفان سے ہریکین کا سفر مکمل کیا ہے۔ امریکہ مخالفین کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں کمزور سا ہریکین ہے اور drought زدہ علاقے پر اچھی خاصی بارش برسائے گا۔ امید ہے اس کے طفیل جمعہ تک ہم بھی اچھی خاصی بارش سے لطف اندوز ہونگے۔ ہریکین کے facts یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ طوفانوں کے بارے میں معلومات اور ہریکین کی کیٹگری کیا ہوتی ہے یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ gustav کی تصاویر یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
باجی سارا پالین پیلن کنزرویٹو جماعت کی طرف سے نائب صدارت کی پرامید ہیں۔ ان کی اپنی بیٹی بھی امید سے ہیں۔ 17 سالہ bristol پانچ ماہ کی حاملہ ہیں۔ سارا نے ان لبرل بلاگر کی طرف سے قیاس آرائیوں، کہ سارا کا پانچ ماہ کا بیٹا دراصل ان کی بیٹی برسٹل کا بیٹا ہے اور سارا نے دراصل ڈھونگ رچایا ہے، کے بعد تنگ آ کر بیان جاری کیا ہے کہ ان کی بیٹی اسقاط حمل نہیں کروائے گی اور بچے کے والد سے شادی کرے گی۔ یاد رہے کہ نہ صرف سارا اسقاط حمل کے خلاف ہیں بلکہ ری پبلکن پارٹی بھی اس کو ایک بڑے ایشو کے طور پر لیتی ہے۔ سارا نے کہا کہ برسٹل اور اس کا ہونے والا خاوند جلد جان لیں گیں کہ بچہ پالنا کتنا مشکل ہوتا ہے لہذا وہ اس کو مکمل سپورٹ کریں گیں۔ برسٹل کو پتہ لگے نہ لگے کہ بچہ پالنا کتنا مشکل کام ہے سارا کو ضرور پتہ لگ گیا ہو گا کہ اسقاط حمل کی مخالفت کبھی کبھی مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔ جان مکین campaign نے اس صورتحال پر کہا ہے کہ وہ پہلے سے برسٹل کا معاملہ جانتے تھے اور سارہ کی candidacy پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا نہیں خیال جان مکین کو پہلے سے علم تھا۔
ایک ایسے وقت میں جب انٹرنیٹ برطانیہ میں 50 میگا بائٹ فی سیکنڈ کی رفتار home users کے لئے کرنے کے لئے لابی ہو رہی ہے جبکہ عام طور پر وہاں 8 میگا بائیٹ دستیاب ہے۔ امریکہ میں مناپلی ڈائل اپ کی جان نہیں چھوڑ رہی۔ ابھی ہم ڈی ایس ایل پر جا رہے ہیں۔ جبکہ کیبل کمپنیاں ایف سی سی کو جو حیلے بہانے دیتی ہیں ان میں ایک یہ بھی شامل ہے کہ لوگ فلمیں ڈاؤنلوڈ کریں گیں۔ اکثر کالے 5 ڈالر کی فلمیں بیچتے پھرتے ہیں۔ ان بہانوں کے بعد ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ہم ڈی ایس ایل سے آگے نہیں جانا چاہتے۔ اس کے بعد کچھ اس قسم کے اقدامات ہوتے ہیں جیسے کام کاسٹ نے فی ماہ انٹرنیٹ استعمال کی لمٹ 250 گیگا بائٹ کر دی ہے۔ میں نے کام کاسٹ نہیں بلکہ ورائزن سے انٹرنیٹ لیا تھا۔ کام کاسٹ کا حال دیکھیں جو نیٹ سپیڈ برطانیہ میں 8 پاؤنڈ یا 15 ڈالر کی ملتی ہے وہ یہاں 70 ڈالر میں دی جا رہی ہے۔
گوگل میپس پر سیٹلائٹ امیج اس قدر ناکارہ ہیں کہ بس۔ پہلے پہلے زوم کرنے پر اچھا خاصہ نظر آتا تھا۔ پھر گوگل کو بھارت تک نے تنگ کر مارا۔ اس کے بعد گوگل کو سیٹلائٹ ویو کم ریزولوشن پر کرنا پڑا جو کہ مجھے نہیں پسند تھا۔ اب گوگل اور geoeye کا معاہدہ ہوا ہے جس کے بعد گوگل میپس کو اس سال نومبر تک نئے امیج مل جائیں گیں۔ geoeye کی سائٹ پر سیمپل امیجز تو اچھے ہی ہیں۔ اب پرسوں لانچ ہونی ہے یہ سیٹلائٹ۔
Popularity: 2%
Gustav
32 views 0 Comments Published August 31st, 2008 in امریکہ نامہ, بش کے دیس میں, فرق The Difference, گھر کے ارد گرد.صدر بش صرف 29 فیصد حمایت کے ساتھ اس وقت پورے ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔ یعنی ان کو پولز کےمطابق عوام میں سے صرف 29 فیصد کی حمایت حاصل ہے۔ ہمارے ملک میں چاہے ہیوی مینڈیٹ ہو یا زرداری حکومت ختم کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ consistency کی کمی کی وجہ سے ہمارے ملک کا یہ حال ہے۔ چونکہ امریکہ consistent ہے لہذا ایک دفعہ چار سال کا عہدہ صدر کو دے دیا تو بس اب غلطی کی تو خمیازہ بھی بھگتو۔ اسی کو لے کر ری پبلیکن پارٹی پریشان تھی کہ کیا عوام دوبارہ ری پبلیکن کو ووٹ دیں گیں؟
صدر بش کے ساتھ ساتھ نائب صدر ڈک چینی کے بھی بڑے لتے لئے گئے ہیں اور ان سے عوام اس قدر نفرت کرتی ہے کہ جان مکین کی نامزدگی کے کنونشن میں کوشش کی جا رہی تھی کہ وہ شرکت نہ کریں۔ لیکن پھر یہ بھی مسئلہ تھا کہ مخالفین کہیں ان کی شرکت نہ کرنے کو بھی ایشو نہ بنا لیں۔ یعنی نہ اگلے بنے یا نگلے والی صورتحال تھی۔ جان مکین نے بھی کوشش کی کہ وہ کرنٹ انتظامیہ سے کچھ فاصلہ قائم رکھیں۔
سیاسی موسم کی گرمی کے ساتھ ساتھ اس سال ویسے بھی بڑی گرمی پڑی۔ میں پچھلے دو سالوں گھاس کا بڑا رونا روتا رہا ہوں۔ اس سال Literally گھاس دو دو ماہ بعد ہم نے کاٹی ہے۔ کیونکہ بارش ہی نہیں ہوئی۔ میں نے جو drought کا لکھا تھا وہ اس سال ورجینیا تک شدید حالت میں پھیل گیا ہے۔ اس ہفتہ سمندری طوفان fay کی باقیات کولڈ فرنٹ سے عین ہماری ریاست پر ٹکرا کر کافی بارش کا سبب بنی۔ 48 گھنٹوں میں تو میں نے 8 انچ بارش ریکارڈ کی تھی۔ پہلے اور دوسرے دونوں دن میرا پیمانہ والا برتن اوور فلو ہوا۔ پھر ساتھ آج صبح بھی ایک انچ بارش ہوئی ہے۔ گھاس ایک دم ہری بھری ہو گئی ہے۔ ابھی تین دن پہلے بارش ہوئی اور کل کاٹنی پڑ گئی۔
ہمارے گھر کے بالکل پاس ایک جھیل سی ہے۔ دراصل یہ ایک ندی نالہ ہے جو کہ جگہ جگہ پر جھیل بن چکی ہے۔ میرے شہر میں اس نالے پر ایک بند باندھا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ جھیل بن گئی ہے۔ اب یہاں ایک چھوٹا سا پاور ہاؤس ہے جس کو یہ بند پانی فراہم کرتا ہے۔ جو بھی اوور پانی ہو وہ بند کے اوپر سے نکل جاتا ہے۔ ادھر دیکھیں جھیل اور جو سفید لائن ہے وہ دراصل پائپ لائن ہے جو کہ پاور ہاؤس تک پانی لے جاتا ہے۔ پاور ہاؤس کی عمارت کم از کم بھی جنگ عظیم کے وقت کی بنی لگتی ہے۔ میں نے جان بوجھ کر اس کی تصویر نہیں لی کہ کہیں کوئی کچھ کہے نہ۔ جھیل عام طور پر بڑی پر سکون رہتی ہے۔ اتنی بارش کے بعد کیسی تھی؟
High Resolution Here
ایک نیا طوفان، جو کہ ہریکین بن چکا ہے، gustav آیا کھڑا ہے۔ (ورچوئل ارتھ کی اچھی پریزینٹیشن ہے) سادہ ادھر ویدر چنیل پر۔ اس نے پہلے کیوبا کو چھیڑا اور امید تھی کہ سندری طوفان fay کی طرح یہ بھی کیوبا سے ہوتا ہوا فلوریڈا پر نازل ہو گا۔ لیکن طرح دے گیا۔ کیوبا کے بعد اس نے جمیکا کا رخ کیا اور 90 کے قریب لاشوں کا تحفہ دینے کے بعد یہ سیدھا بھاگا جا رہا ہے لوزیانا کی طرف۔ کل شام یہ 150 میل فی گھنٹہ کی طاقت پکڑ چکا تھا لیکن اب کمزور ہو کر 115 میل فی گھنٹہ پر ہے۔ نیو اورلینز شہر خالی کروا لیا گیا ہے۔ بنائے گئے levee سسٹم پر انحصار ہے۔ ابھی چند دنوں پہلے ایک کالی عورت جس کا گھر نئے بنائے گئے بند سے صرف 200 میٹر دور ہے بڑی خوشی خوشی بتا رہی تھی کہ وہ گھر واپس آ کر بہت خوش ہے اور اگر 2005 میں یہ بند یہاں ہوتا تو شہر نہ ڈوبتا۔ اگر شہر دوبارہ ڈوب گیا تو شائد نیو اورلینز گھوسٹ ٹاؤن بن جائے۔
اس کے علاوہ بھی ایک اور حسینہ سمندر میں مٹر گشت کر رہی ہے۔ اس کا نام ہے Hanna یہ ابھی تک تو سمندری طوفان ہے پر کیا پتہ چلتا ہے ہریکین بن جائے۔ کبھی اس کا موڈ کیوبا کی طرف ہوتا ہے تو کبھی ایسٹ کوسٹ کی طرف دل لگتا ہے۔ دیکھئے یہ کدھر کو جاتی ہے۔ یعنی بیک وقت دو طوفان امریکہ کے ساحلوں پر مٹر گشت کر رہے ہیں۔
یہ طوفان امریکہ کے لئے چاہے بری بلا ہوں صدر امریکہ اور نائب صدر دونوں کے لئے رحمت بن گئے ہیں۔ جان مکین نے سکھ کا سانس لیا ہو گا۔ صدر امریکہ نے fema سے اپڈیٹ لینے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ اور نائب صدر ڈک چینی ری پبلیکن پارٹی کے کنونشن میں شرکت نہیں کریں گے بلکہ وہ ٹیکساس جا رہے ہیں جہاں سے وہ اس سے نمٹنے والے جوانوں سے ملیں گیں اور اس تمام صورتحال کا خود کنڑول اور جائزہ لیں گیں۔ صدر نے کہا کہ وہ فوری طور پر تو لوزیانہ نہیں جا رہے کہ ان کی موجودگی مدد میں رکاوٹ نہ بنے لیکن جونہی حالات نے اجازت دی وہ جائیں گے۔ اس سے اس طوفان کے سنگین ہونے کا اندازہ ہو نہ ہو پاکستان اور امریکہ کا فرق ضرور معلوم ہوتا ہے۔
جان مکین نے سکھ کا سانس بھی لیا اور کنونشن کے کافی سارے پروگرام کینسل کر ڈالے جبکہ کہا کہ وہ صدر بش کی کیٹرینا والی غلطی نہیں دہرانا چاہتے۔ شائد مکین بھول گئے کہ وہ اس وقت صدر بش کے ساتھ اپنی 69 سالگرہ منانے میں مصروف تھے۔ جان مکین شائد پاکستانی صدر مشرف سے بہت متاثر ہیں لہذا سب سے پہلے پاکستان کی طرز پر انہوں نے آجکل ملک مقدم یعنی country first کا نعرہ لگایا ہوا ہے۔ جان مکین 7 گھروں کے مالک ہیں وہ بھی ایسے وقت میں جب فور کلوژر کی لائن لگی ہوئی ہے۔ ان کو اپنی ذاتی ملکیت مکانات کی تعداد کا علم نہیں جس پر کافی مذاق اڑایا گیا تھا۔ اس پر مزید مذاق وہ ہمیشہ بڑی کمپنیوں کو ٹیکس بریک دینے کے حق میں ووٹ ڈالتے رہے ہیں اور مڈل کلاس کی مشکلات کا اندازہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ طوفان سچ مچ جان مکین کے لئے بہت بڑی نعمت ثابت ہوا ہے۔
Popularity: 2%









